This is blog about poetry. You will find here islamic poetry,love poetry,sad poetry,sofyana kalam,urdu poerty,punjabi potry,funny poetry.
Friday, 26 December 2014
Apni Roswai Tery Nam Ka Charcha Dekhon by Parveen Shakir
اپنی رسوائی تیرے نام کا چرچا دیکهوں
اک ذرہ شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکهو ں
نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکهو ں
آنکھ کهل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکهو ں
شام بهی هو گی دهندلا گئیں آنکھیں مری
بهولنے والے میں کب تک تیرا راستہ دیکهو ں
ایک ایک کر کے مجھے چهوڑ گئیں سب سکهیاں
آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکهوں
کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر
اتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکهو ں
تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات
جانے کیوں تیرے لیئے دل کو دهڑکتا دیکهو ں
بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بوجهے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکهو ں
سب ضدیں اس کی میں پوری کروں،ہر بات سنوں
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکهو ں
مجھ پے چها جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکهوں
پهول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کهل جائے
پنکهڑی پنکهڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکهو ں
میں نے جس لمہے کو پوجا ہے اسے بس اک بار
خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکهو ں
تو مری طرح سے یکتا ہے مگر مرے حبیب
جی میں آتا هے کوئی اور تجھ سا دیکهوں
ٹوٹ جائیں کہ پگهل جائیں مرے کچے گهڑے
تجھ میں دیکهوں کہ یہ آگ کا دریا دیکهو ں
پروین شاکر
Parveen Shakir
Meri Talab Tha Ak Shakhs Jo Nahi Mila To Phir Parveen Shakir
میری طلب تها ایک شخص جو نہیں ملا تو پهر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بهول گیا سوال بهی
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بهی ڈهال تهی
اس کی ہنسی میں چهپ گیا اپنے غموں کا حال بهی
گاہ قریب شاہ رگ، گاہ بعید و ہم و خواب
اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بهی تها وصال بهی
اس کے ہی بازوں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے
جسم کی خواہشوں پے تهے، روح اور جال بهی
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے ایک پتا
موج ہوا اے کوئے یار، کچھ تو میرا خیال بهی
پروین شاکر
Parveen Shakir
Soli pe Latakny Ka hy Imkan Mokamal
سولی پہ لٹکنے کا ہے امکان مکمل
میں دوست ہو منصور کا اعلان مکمل
کچھ بھی نہیں اس آتشِ توحید نے چھوڑا
ہستی سمیت جل گیا سامان مکمل
ہے شرک میرا ہونا جہاں پر میں ہوں
آساں تو نہیں ہونا مسلمان مکمل
جب تک نہیں نثار ہر اک شے بنامِ اُو
ہو سکتا نہیں تب تلک ایمان مکمل
اب تو یہی خواہش کہ خواہش نا کوئی ہو
اب دل کے ہوئے جاتے ہیں ارمان مکمل
رکھ دینا اس گھڑی خم و ساغر مرے آگے
مخبوط ہو چکیں گے جب اوسان مکمل
جب انس کا عنصر ہی نہ پایا جائے
تو وارثی کیونکر ہوا انسان مکمل
بی اے وارثی
Jo shajar Sookh Gya Hy Wo Hara Kesy Ho
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
مَیں پیمبر تو نہیں، میرا کہا کیسے ہو
دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی
نور آنکھوں کا ہے، آنکھوں سے جدا کیسے ہو
جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں
اور جسے جان چکے ہیں، وہ خدا کیسے ہو
عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی
ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیاء کیسے ہو
جس سے دو روز بھی کُھل کر نہ ملاقات ہوئی
مدتوں بعد ملے بھی تو گلہ کیسے ہو
دُور سے دیکھ کے مَیں نے اسے پہچان لیا
اس نے اتنا بھی نہیں مجھ سے کہا، "کیسے ہو؟"
وہ بھی اِک دور تھا جب میں نے تجھے چاہا تھا
دل کا دروازہ ہے۔۔۔ ہر وقت کھلا کیسے ہو
جب کوئی دادِ وفا چاہنے والا نہ رہا
کون انصاف کرے، حشر بپا کیسے ہو
آئینے میں بھی نظر آتی ہے صورت تیری
کوئی مقصودِ نظر تیرے سوا کیسے ہو
کن نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہوں شہزادؔ
مجھ کو معلوم نہیں، اس کو پتا کیسے ہو
شہزاد احمد
(کتاب: جلتی بجھتی آنکھیں)
Desamber Mujhy Ras Ata Nahi Mohsin Naqwi
دسمبر مجهے راس نہیں آتا
کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے
چٹختے ہوئے خواب
آنکھوں کی نازک رگیں چهیلتے ہیں
مگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کر
اب تک وہی جستجو کا سفر کر ریا ہوں
گزرتا ہوا سال جیسا بهی گزرا
مگر سال آخری دن
نہایت کٹهن ہیں
میرے ملنے والو!
نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئے
تو ملنا
کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجهتا ہوا دل
دهڑکتا تو ہے مسکراتا نہیں
دسمبر مجهے راس آتا نہیں
محسن نقوی
Tuesday, 23 December 2014
Peer Naseer Uddeen Naseer Shah Sahib ka Humdia Kalam
پیر نصیر الدین نصیر کا حمدیہ کلام ۔۔۔
میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے وار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی
سرِ طور ہو سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ میرا جو بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں اُنھی کا تھا میں اُنھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے، میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری انجمن کے قریں سہی
تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا، تیری رہگزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی
میری زندگی کا نصیب ہے، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اسکا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ نہ اٹھایئے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی
اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی
Bhari Dunya Me Aakhir Dil ko Samjany Kahan Jain
بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جایئں
محبت ہو گئی جن کو وہ دیوانے کہاں جایئں
لگے ہیں شمع پر پہرے زمانے کی نگاہوں کے
جنھیں جلنے کی حسرت ہے وہ پروانے کہاں جائیں
سنانا بھی جنھیں مشکل چھپانا بھی جنھیں مشکل
ذرا تو ہی بتا اے دل وہ افسانے کہاں جائیں
نظر میں الجھنیں دل میں ہے عالم بیقراری کا
سمجھہ میں کچھہ نہی آتا سکوں پانے کہاں جایئں
Tuesday, 16 December 2014
Zehar Dety Han Kehty Han k Pina Ho Ga
ﺯﮨﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﯿﻨﺎ ھو گا
ﺯﮨﺮ ﭘﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﯿﻨﺎھو گا
Monday, 15 December 2014
Tareekh Ne Pocha A Logo Ye Dunya Kis ki Dunya Hy?
تاریخ نے پوچھا اےلوگو! یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
شاہی نےکہا یہ میری ہے۔ اور دنیا نے یہ مان لیا۔
پھر تخت بچھے،ایوان سجے،گھڑیال بجے،دربار لگے۔
تلوار چلی، اور خون بہے،انسان لڑے،انسان مرے۔
دنیا نے آخر شاہی کو پہچان لیا، پہچان لیا۔
تاریخ نےپوچھا پھر لوگو! یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
دولت نےکہا یہ میری ہے، اور دنیا نے یہ مان لیا
پھر بینک کھلے، بازار جمے، بازار جمے، بیوپار بڑھے
انسان لٹے، انسان بکے،آرام اڑے، سب چیخ اٹھے
دنیا نے آخر دولت کو پہچان لیا، پہچان لیا۔
تاریخ نے پوچھا پھر لوگو! یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
محنت نےکہا یہ میری ہے، اور دنیا نے یہ مان لیا
پھر روح بڑھی پھر پیٹ بڑھے، افکار سڑے، کردار گرے
ایمان لٹے، اخلاق جلے،انسان گرے، حیوان بنے
دنیا نے آخر محنت کو پہچان لیا، پہچان لیا
تاریخ نے پوچھا پھر اے لوگو! یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
مومن نے کہا اللہ کی ہے، اور دنیا نے یہ مان لیا
پھر قلب ونظر کی صبح ہوئی،ایک نور کی لے سی پھوٹ پڑی
اک اک خودی کی آنکھ کھلی،فطرت کی صدا پھر گونج اٹھی
دنیا نے آخر آقا کو پہچان لیا، پہچان لیا۔
نعیم صدیقی مرحوم
Naim Siddiqi
Thursday, 11 December 2014
'''Hum toot jayen gay'''
Sunoo.....
'''Hum toot jayen gay'''
'''Ke Doori seh na payen gay'''
'''Judai maar dalegi'''
Sunoo.....
'''Ye ankhen bojhal hain'''
'''Inhen kis tarah behlayen gay'''
Sunoo.....
'''Hum so na payen gay'''
'''Kabhi khush ho na payen gay'''
'''Judai maar dalegi'''''
Sunoo.....
'''Ye dil tumhara hai'''
'''Na tum bin ab guzara hai'''
Sunoo.....
''' Kuch waqt do humko'''
'''Bana len dost is ghum ko'''
'''Humain maloom hai aakhir'''
'''JUDAI MAAR DALEGI'''
Wednesday, 10 December 2014
Monday, 8 December 2014
You can Never Make the Same Mistake Twice
You can Never Make the Same Mistake Twice
Because
The second Time you Make it it,s not A Mistake, it's A Choice.
Gul e chaman ka ye hall sun kr
Gul e chaman ka ye hall sun kr
Tume lgy ga me bewafa hun
Udas kalioun ko chor. Kr men
Naye baharon ko dhoundta hun
Mgr haqeeqat me is chaman k
Tmam pholun ki khawahishoun ka
Haseen mosam ki barishoun ka
Na mery dil py asar hua hy
Na mery dil py asar hua tha
Me aj b is nay chamn me
Purany qissy suna rha hun
Yaqeen na aay to plat k dekho
Jahan khara tha
Wheen khara hun
